عقاب یا شاہین علامہ اقبال
بلند پہاڑوں سے بھی اونچا تنہا پرواز کرتے شاہین سے انسانوں کا رومانس بہت قدیم ہے. عقاب بول لیں یا شاہین یہ پرندوں کی دُنیا کے بڑے پرندے ہیں. دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس تنہائی نے ان کو غضب کا ارتکاز یا concentration دیا ہوتا ہے.
شاعر مشرق نے نوجوانوں سے کہا تھا" تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا" لیکن یہ نری سوچ کی پرواز نہیں ہے. قدیم انسان کو بھی اڑنے کا بہت شوق تھا. البتہ شوق یہ تب پورا ہوا جب انسانی سائنس نے اس کیلئے اسباب اور اہلیت بنائی. نوجوانی کی پرواز بھی اسباب اور اہلیت سے منسوب ہے.
یہ اسباب کیا ہیں. شاہین کی طرح اپنی ذمہ داری خود اٹھانا. شاہین کی تیز نظر آنکھیں علم حاصل کرنے سے ملتی ہیں جو ہماری نظر کو چہار عالم پھیلا دیتا ہے. اور شاہین ہی کی طرح ارتکاز یعنی اپنے مقصد اور اپنی منزل پر ایسے نظر رکھنا کہ کوئی بے منزل بے مقصد چیز آپ کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے.
بھلے آپ آج چھوٹا سہ پرندہ ہوں لیکن ایک چھوٹا پرندہ بھی کسی شاخ پر بیٹھتے اس کے ٹوٹنے کا خوف نہیں پالتا. کیونکہ اسے شاخ پر نہیں اپنی پرواز پر اعتماد ہوتا ہے. ایسے ہی آپ اپنی ذات سے جتنے ڈر جتنے خوف کھینچ کر دور پھینکتے جائیں گے آپکا خود پر اعتماد بڑتا چلا جائے گا. یہی اعتماد آپ کو کل کا وہ شاہین بناتا ہے جس سے انسانوں کا
رومانس بہت قدیم ہے.ک

Comments
Post a Comment